بنگلورو:10/اپری(ایس او نیوز)سرکاری فرسٹ گریڈ کالجوں کے مہمان لکچرارس نے دھمکی دی ہے کہ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اگران کی مانگوں پر تبادلہئ خیال کرنے کیلئے انہیں بات چیت کیلئے مدعو نہیں کیا تو وہ ڈگری امتحانات اور جوابی پرچوں کی جانچ کا بائیکاٹ کریں گے۔ ریاست بھر کے سرکاری فرسٹ گریڈ کالجوں میں جملہ 14531مہمان لکچرارس کام کرتے ہیں۔ ان لکچرارس نے اپنی ملازمت کیلئے تحفظات کا مطالبہ کرتے ہوئے جدوجہد شروع کی ہے۔ لکچرارس کی اسوسی ایشن کے ریاستی صدر سرینواسا چار نے آج ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس سلسلے میں حکومت سے بارہا نمائندگی کے باوجود بھی ایسا نہیں لگتا کہ ان کے مسائل کو سلجھانے میں حکومت سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ سدرامیا نے اسمبلی اجلاس میں یقین دلایاتھاکہ مہمان لکچرارس کی تنخواہوں میں پندرہ سو روپیوں کا اضافہ کیا جائے گا لیکن اب تک اس پر عمل نہیں کیاگیا ہے۔ مہمان لکچرارس کی سینیارٹی اور ان کی خدمات کی بنیاد پر انہیں متعین کرنے کی مانگ بھی کی گئی تھی، لیکن اس پر بھی کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کیاگیا ہے۔ سرکاری لکچرارس کو جس طرح پی ایچ ڈی اور ایم فل میں کامیابی پر مراعات دی جاتی ہیں، انہی خطوط پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مہمان لکچرارس کو بھی مساوی تنخواہ دی جانی چاہئے، دہلی، ہریانہ، کیرلا اور آندھرا کے خطوط پر کرناٹک میں بھی لکچرارس کی کم از کم تنخواہ 25 ہزار روپے طے کی جائے۔ان لکچرارس کو چھٹی کے ساتھ تین ماہ کی تنخواہ سالانہ ملنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ان تمام مطالبات پر غور کرنے کیلئے لکچرارس کی انجمن وزیراعلیٰ سدرامیا سے ملاقات کرنا چاہتی ہے، لیکن اب تک اس سلسلے میں انہیں وقت نہیں دیاگیاہے۔